Hate mail and me

Today i received hate mail from some one who i don’t know ofcourse. I have never received any hate mail but the experience is not very nice. It was not a very fun reading of two lines but i have to give it to the person who went through the effort to create an email address with the alias rubeelsux@yahoo.com.

They must really hate me cuz otherwise you can just create an anonymous email address and get done with it but they went through the extra effort to create a custom email address.

Politics (A rant)

When i came to the USA some 10 odd years ago, i witnessed the first election in 2000; it was closely fought and very controversial. I looked at the election from a distance as i was working odd jobs and trying to make a living. From what i saw from far was a noble system that was working so well for the people. I would think then that this is the way Pakistan needs to be at, with elections held and results handled so well (although the results that year were decided by the supreme court very much in USA (Gore vs. Bush))

Muslims were very happy with the results, Gore had chosen a pro-israel politician to be his running mate and when bush defeated him, it was all cheers.

Well i am not going to talk about Muslims and USA or anything but coming back to my original point about the noble electoral system, i was fascinated. Later on i got a job where i had to commute 1 hour every day and i would listen to CSPAN Radio every morning. This was in 2003-2004 election season. By this time i have had some time and learned about the political system. As the election got closer, it became clearer that the system was as dirty as i had left behind in Pakistan. Politicians don’t work for their constituents, but they work for the party. Right or wrong, the party line was used to vote on critical issues and decisions that impacted citizens every day.

Attack campaigns and much uncivilized manner of political wrangling, use of lobbyists and many more dirty tricks were used to win elections, defeat bills and play the politics game. It is very interesting for me that in the last 10 years or so, i have seen the American society disintegrate into religious and liberal groups. This division was never this clear before but now it is clearer than before. The ads on TV now a day are based on lies, deceitful statements and religion. Is this is the United States of American or United States of Christian America?

Recently reading a book on a troublesome event in the history of Muslims, Siege of Mecca was about taking over the holiest place for Muslims by extremists, the author in the end had emphasized that after defeating the terrorists/extremists, the Saudi government gave in to their demands and adopted what they wanted to force on the society. It seems that after defeating the confederates in the civil war, the US government had adopted a lot of their extreme agendas and defeating them was nothing but a makeup with the extreme right. I think the reminiscence of those extreme are now part of Republicans.

ہلاک ہونے والوں میں سے قاتل کون تھا؟

ہلاک ہونے والوں میں سے قاتل کون تھا؟

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی کے بارے میں حکومت کی جانب سے کئی فیصلے ہوئے جن میں سے کسی پر بھی عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آتا۔

کراچی میں پر تشدد واقعات، ہنگامہ آرائی اور خوف و ہراس میں غروب ہونے والا سورج منگل کو اسی ماحول میں طلوع ہوا۔ صبح کو تمام تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز بند رہے اور سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ نجی گاڑیاں بھی نہ ہونے کے برابر رہیں۔

ماہ رمضان کی آمد اور سکولوں کی موسم گرما کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد گزشتہ روز بازاروں اور مارکیٹوں میں گہماگہمی تھی۔ مگر آج ہر جگہ ویرانی نظر آئی۔ شہر کے دل کے نام سے پہچانے جانے والے علاقے ایمپریس مارکیٹ میں کچھ پریشان تو کچھ خوفزدہ دکانداروں سے ملاقات ہوئی۔

ان دکانداروں کا کہنا تھا کہ اچانک دو تین لڑکے آتے ہیں اور فائرنگ کر کے چلے جاتے ہیں حالانکہ ان کی دکانیں پہلے سے بند ہیں۔

ان میں اکثر ریڑھی لگانے اور مزدوری کرنے والے تھے جن کو یہ فکر تھی کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو ان کا گذارہ کیسے ہوگا۔

پاکستان کے دیگر علاقوں میں اقتصادی سرگرمیاں محدود ہونے کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کراچی شہر کا رخ کرتی ہے۔ جس وجہ سے اس شہر کی آبادی غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پونے دو کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ اس میں چالیس لاکھ پشتون بھی شامل ہیں۔

دو بندر گاہوں کے ساتھ مرکزی بینک، کئی ملکی اور غیر ملکی مالیاتی اداروں اور کمپنیوں کے ہیڈ آفیس یہاں موجود ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملکی خزانے میں ساٹھ فیصد آمدن اسی شہر سے جاتی ہے۔

عام تعطیل کے ماحول میں شہر کی کئی سڑکوں پر بچے اور بڑے کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر آئے۔ ایک جگہ رک کر میں ان نوجوانوں سے سوال کیا کہ آج دکانیں کیوں بند ہیں تو ان میں سے ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سوگ میں دکانیں بند رکھی ہوئی ہیں اور متحدہ کا ساتھ دیا ہے۔

میں نے ان سے پوچھا کہ شہر میں ہلاکتیں کون کرا رہا ہے تو ان کا خیال تھا کہ اس میں ایجنسیاں ملوث ہوسکتی ہیں کیونکہ ہمیشہ کوئی تیسری قوت آ کر یہ کرتی ہے۔ جب کہ اس نوجوان کے ایک اور ساتھی کا کہنا تھا کہ یہ پورا ٹیم ورک نظر آتا ہے کیونکہ کراچی کے ساتھ حیدرآباد میں بھی ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے۔

میں نے ان سے پوچھا کہ شہر میں ہلاکتیں کون کرا رہا ہے تو ان کا خیال تھا کہ اس میں ایجنسیاں ملوث ہوسکتی ہیں کیونکہ ہمیشہ کوئی تیسری قوت آ کر یہ کرتی ہے۔ جب کہ اس نوجوان کے ایک اور ساتھی کا کہنا تھا کہ یہ پورا ٹیم ورک نظر آتا ہے کیونکہ کراچی کے ساتھ حیدرآباد میں بھی ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے۔
ان نوجوانوں کے ساتھ موجود دو لڑکوں کی طرف میں نے اشارہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ یہ کون ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا کہ یہ پشتون ہیں اور ہمارے بھائی ہیں۔ جب میں نے ان پشتون نوجوانوں سے بات کرنا چاہی تو انہوں نے بات کرنے سے انکار کردیا۔

لانڈھی میں ایک پیٹرول پمپ کو جلانے کے بعد مرکزی شہر کے تمام پیٹرول پمپ اور سی این جی اسٹیشن قناطیں لگا کر بند کردیئے گئے تھے جس کے باعث نجی گاڑیوں کے مالکان اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

زینب مارکیٹ کے قریب ایک پریشان حال ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا کہ پورا شہر بند اور سواری نایاب ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ ان حالات میں وہ کیوں گھر سے نکلے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ خوف انہیں بھی آتا ہے مگر کیا کریں پیٹ کے لیے تو نکلنا پڑتا ہے۔

پچھلے ہفتے شہر میں پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کے بعد یکم جنوری سے جولائی تک ہلاکتوں کی جوڈیشل انکوائری، شہر کو اسلحے سے پاک کرنے کے لیے سفارشات کی تیاری کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے اور رینجرز کا گشت بڑھانے اور چوکیاں قائم کرنے جیسے کئی فیصلے ہوئے جن میں سے کسی پر بھی عملدرآمد ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔

رکن صوبائی اسمبلی رضا حیدر، ان کے محافظ اور عوامی نیشنل پارٹی کے دو کارکنوں کے علاوہ ہلاک ہونے والے کون ہیں؟ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ عام لوگ تھے۔ اس سے قبل بھی دو ہزار سات سے لے کر گزشتہ ہفتے تک ان پرتشدد واقعات کا نشانہ عام لوگ ہی بنے جن کے مقدمات اور تفتیش نامعلوم وجوہات کے بنا پر بند کر دی گئی۔

شام کو ایک ایس ایم ایس آیا ہے جس میں پوچھا گیا کہ ہلاک آخر ہلاک ہونے والے پچاس افراد میں سے رکن صوبائی اسمبلی کا قاتل کون تھا؟