محققِ قرآن اور احیائے خلافت کے حامی

محققِ قرآن اور احیائے خلافت کے حامی

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان میں تنظیمِ اسلامی کے بانی اور مذہبی سکالر ڈاکٹر اسرار احمد کی زندگی میں ایسے کئی موڑ آئے جب انہیں اپنے قول وفعل، بیان و عمل کی وجہ سے اختلاف اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا البتہ گذشتہ دو دہائیوں سے انہوں نے کوئی ایسا بیان نہیں دیا تھا جسے عوامی سطح پر متنازعہ قرار دیا جاسکے۔

ڈاکٹر اسرار احمد قرآن مجید کے محقق تھے اور انہوں نے ڈاکٹری کا پیشہ چھوڑ کر قرآن پاک کی تشریح و توضیح اور اس کا پیغام پھیلانے کا کام فریضہ اپنایا اور آخری دم تک وہ اس میں مشغول رہے۔

سنہ اسی کی دہائی میں جب فوجی حکمران ضیاءالحق کی مجلس شوری میں شمولیت کے ساتھ ساتھ انہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن یعنی پی ٹی وی پر ان کا درس قرآن کا پروگرام الہدی شروع کیا تو پاکستان میں ان کی شہرت عروج پر پہنچ گئی۔

صدر ضیاءالحق ماڈل ٹاؤن میں یا باغ جناح کی مسجد دارالسلام میں ان کی امامت میں نماز ادا کرتے اور خطبہ سنا کرتے تھے۔

انہی دنوں ڈاکٹر اسرار نے چند ایسے بیانات دیے جن پر انہیں عوامی حلقوں کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے پاکستان کے مقبول ترین کھیل کرکٹ کے بارے میں جرمنی کے سابقہ نازی حکمران ہٹلر کے اس قول کی حمایت کی کہ ’یہ ایسا کھیل ہے جسے بے وقوف کھیلتے اور گدھے دیکھتے ہیں‘۔

جنرل ضیاء الحق نے باغ جناح میں ان کی امامت میں نماز ادا کرنے کے بعد ان سے مجلس شوری چھوڑنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا تھا کہ آپ نے اسلام نافذ کرنے کا جھوٹا وعدہ کیا تھا اور لوگوں کو اسلام کے نام پر دھوکا دیا۔
اگرچہ ڈاکٹر اسرار کی تقاریر کا مرکز کبھی فرقہ واریت نہیں رہا لیکن وہ خود مسلمانوں کے اہلحدیث مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور بقول مولانا حیدر موددی ’دیگر مسالک کے علماء کی طرح بعض اہلحدیث علماء بھی تقوی کے معاملے میں اعتدال سے تجاوز کرجاتے ہیں‘۔ انہوں نے پردے کے بارے میں مولانا کے خیالات کو متشددانہ قرار دیا اور کہا کہ ’وہ سمجھتے تھے کہ عورت کے ہاتھ پاؤں منہ سب پردے میں ڈھکے رہنے چاہیئیں‘۔

ڈاکٹر اسرار احمد نے چند برس کے بعد ضیاءالحق کی مجلس شوری سے استعفی دے دیا تھا اور جنرل ضیاء الحق نے باغ جناح میں ان کی امامت میں نماز ادا کرنے کے بعد ان سے مجلس شوری چھوڑنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا تھا کہ آپ نے اسلام نافذ کرنے کا جھوٹا وعدہ کیا تھا اور لوگوں کو اسلام کے نام پر دھوکا دیا۔

لاہور کے سینئر صحافی پرویز حمید نے کہا کہ فوجی آمر سے ہونے والی یہ گفتگو ان دنوں اخبارات میں شائع ہوگئی تھی جس کا اختتام ڈاکٹر اسرار کے اس جملے سے پر ہوا تھا کہ ’میں یہاں بیٹھا ہوں آپ جب اسلامی نظام نافذ کرلیں گے تو میں آپ کے ساتھ شامل ہوجاؤں گا‘۔

ڈاکٹر اسرار احمد اس سے پہلے جماعت اسلامی کو بھی نقطۂ نظر کے اختلاف کی بنیاد پر خیر باد کہہ چکے تھے۔وہ جماعت اسلامی کے پارلیمانی طرز سیاست میں حصہ لینے اور اس کے بانی مولانا موددی کے یک شخصی فیصلوں کے خلاف تھے۔ ڈاکٹر اسرار کا خیال تھا کہ پارلیمانی طرز سیاست کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے جبکہ ان کے خیال میں خلافت کا احیاء ہی حقیقی مسلم طرز حکمرانی ہوسکتاہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد ایک عرصے تک اپنے خطابات میں یہ کہتے رہے کہ پاکستان کا دشمن بھارت نہیں ہے بلکہ امریکہ یورپ اور اسرائیل اصل مخالف ہیں جو تیسری دنیا کو پسماندہ رکھنے اور ان پر مظالم کے ذمہ دار ہیں۔

ڈاکٹر اسرار احمد نے بھارت کے کئی دورے بھی کیے اور وہاں مسلمانوں کے بڑے اجتماعات سے خطاب کیا۔ اپنی وفات سے صرف تین مہینے پہلے بی بی سی لاہور آفس کے دفتر تشریف لائے تو غیر رسمی گفتگو کےدوران میں انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایک ایسی مضبوط لابی موجود ہے جو پاکستان سے تعلقات ٹھیک نہیں ہونے دے گی۔

ڈاکٹر اسرار احمد ایک عرصے تک اپنے خطابات میں یہ کہتے رہے کہ پاکستان کا دشمن بھارت نہیں ہے بلکہ امریکہ یورپ اور اسرائیل اصل مخالف ہیں جو تیسری دنیا کو پسماندہ رکھنے اور ان پر مظالم کے ذمہ دار ہیں۔
ڈاکٹر اسرار نے اس موقع پر بھارتی اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تعریف کی اور کہا کہ وہ اسلام کے لیے بہت کام کررہے ہیں۔ان کا یہ بھی تجزیہ تھا کہ پاکستانیوں کی نسبت بھارتی مسلمان اسلام کے زیادہ قریب ہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد نے بتایا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پیس ٹی وی کی طرح وہ بھی پاکستان میں ٹی وی چینل کھولنا چاہتے ہیں لیکن حکام طرح طرح کی شرائط عائد کررہے ہیں۔

اس ملاقات کے غیر رسمی ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے ان سے کہا کہ وہ کچھ کمپرومائز کرکے ایک دفعہ چینل کا لائسنس حاصل کیوں نہیں کرلیتے؟ اس بات پر وہ خاموش ہوگئے لیکن ان کا انداز بتا رہا تھا کہ زندگی میں کبھی کمپرومائز نہ کرنے والے ڈاکٹر اسرار احمد کو یہ بات پسند نہیں آئی تھی۔

ڈاکٹر اسرار احمد کی جگہ اب ان کے صاحبزادے حافظ عاکف سعید تنظیم اسلامی کے امیر ہیں اور بظاہر اب وہ اصلاح معاشرہ کی اس تحریک کو آگے بڑھائیں گے جو ان کے والد نے شروع کی تھی۔ یہ وہی عاکف سعید ہیں جن کی شادی اسلامی مہینے محرم کی نویں اور دسویں کوہوئی تھی۔

جماعت اسلامی کے بانی مولانا موددی کے صاحبزادے مولانا فاروق حیدر موددی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ اس شادی میں شریک نہیں ہوئے تھے کیونکہ دس محرم جیسے یوم سوگ پر شادی میں شرکت کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے ۔انہوں نے کہا کہ جان بوجھ کر کسی کی دل آزاری کرنا کوئی مستحسن اقدام نہیں ہے۔

Why have the British media killed the ‘Kill Khalid’ reviews?

Despite rave reviews in the US, Paul McGeough’s book about a failed Mossad assassination attempt has been ignored by British media

By Phillip Knightley
LAST UPDATED 3:10 PM, JULY 21, 2009
In April this year Quartet Books published Kill Khalid: The Failed Assassination of Khalid Mishal and the Rise of Hamas. It was written by an Australian war correspondent, Paul McGeough, an expert on the Middle East.

The book had come out in the United States to ecstatic reviews. I had heard of McGeough and although I did not know him, when asked to provide a quote for the book’s dust-jacket, I read the manuscript and was happy to do so.

I found it a rare and most exciting book – a serious political history that the author had made into a fast-paced thriller. At its core is the story of how, in 1997, the Israeli intelligence service Mossad tried to assassinate the Hamas leader, Khalid Mishal, in broad daylight on the streets of Amman, Jordan. Under the cover of opening a can of Coca Cola, the assassins sprayed a deadly poison into his ear.

Israel handed over the antidote when Jordan threatened to hang their agentsBut the Mossad agents bungled their escape, Khalid’s bodyguards managed to capture two of them and the others had to hide in the Israeli embassy. As Khalid slipped into a coma, Jordanian troops surrounded the Israeli embassy and after a complaint from a furious King Hussein of Jordan, Bill Clinton pressured the Israeli prime minister, Benjamin Netanyahu, to try to right matters.

At first Netanyahu pleaded that it was too late to reverse the effects of the poison. But when Hussein added the threat that if Khalid died, the Mossad agents who were being held by Jordan would all be hanged, the antidote was quickly produced. Khalid survived, just, and the stage was set for his phenomenal political ascendancy.

Containing interviews with all the leading players, including unprecedented access to Khalid himself, McGeough’s book recounts the history of Hamas through a decade of suicide bombing attacks, political infighting and increasing public support, culminating in the battle for Gaza in 2007 and the present day political stalemate.

This is a serious book with an important message about one of the world’s most

turbulent trouble spots. But it received a strange reception in Britain. After two excellent reviews – in the London Review of Books and the Times Literary Supplement – it has been virtually ignored.

The chairman of Quartet Books, Naim Attallah, was so concerned about this that he contacted the literary editors of all the major publications. Most told him that they did not plan to review the book. Further, his sales force informed him that some bookshops were reluctant even to stock it.

Attallah then issued a press release accusing the literary establishment of “an unspoken tactic to limit the book’s public circulation” because of a decision to “dismiss Hamas within the box of ‘terrorist organisation’ without granting a serious consideration to its valid aspects as a voice in the debate”.

He added: “Anyone who hopes for peace in the Middle East must surely recognise that Hamas is an integral part of any move towards a peace settlement. No progress can be achieved without their involvement.”

Khalid Mishal, ill after being poisoned by Mossad agents, is transferred to hospital

It is difficult to attribute motives to organisations for their non-action in any controversy. But it does seem to me that in this case the British literary establishment has a case to answer. I believe it has developed a mind-set that is adverse to controversy. Hamas has been designated a ‘terrorist organisation’. Therefore to review a book about a ‘terrorist organisation’ would leave a book editor open to criticism.

Further, it might provoke a complaint from one of the many organisations that supports Israel. This would require a response.
Memos would have to be exchanged and letters written.

At a time of reduced budgets and staff cuts, many a literary editor would be tempted to decide that to review a controversial book like Kill Khalid is simply not worth the trouble.

http://www.thefirstpost.co.uk/50995,news-comment,news-politics,british-media-kill-khalid-mishal-reviews-paul-mcgeough-mossad-israel-hamas-middle-east